Thursday, 12 May 2022

الائی وادی

 اسلام و علیکم آپ سبھی کو ایک نئے سفر میں خشمدید 

جیسا کے آپ نے پچھلی ویڈیو میں خانپور ڈیم کو دیکھا تھا توخنپور دیکھنے کے بعد ہم نے رخت سفر باندھا بٹگرام کی تحصیل الائی کی طرف جو آجکی تاریخ میں ایک زلہ کا درجہ پا چکا ہے  لیکن راستے میں شاہرائے قررقرم  کے کنارے آباد زلگ مانسہرہ کا ایک بازار چھتر پلین ہماری شام کی منزل بنا جہاں ہم نے بند پڑے پی تی دی سی ہوٹل میں اپنے خیمے لگا کر قیام کیا اور دو دن اس علاقے کی خوبصورتی کو دیکھتے رہے علاقہ بیحد خوبصورت تھا جسکی میں نے ویڈیوز بھی بنا رکھی تھی لیکن افسوس کے ساتھ میں وہ ویڈیو اس لئے نہیں لگاونگا کیوں کہ وہاں سیاحوں کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے اگر کوئی میری ویڈیو دیکھ کر وہاں چلا جاتا اور وہاں انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اسے پریشانی ہوتی تو اسکا قصوروار میں خود کو ٹہراتا ،لہٰذا ہم  دو دن کے سٹے کے بعد ایک بار فرشراہ ریشم پر رواں دوں ہونے لگے تھے کہ مانسہرہ کی حدود ختم ہو گئی اور بٹگرام پولیس کی طرف سے ہمیں روک لیا گیا 


یہاں پر بٹگرام پولیس نے ہماری انٹری کی علاقے کا پوچھا کہاں جا رہے ہو پولیس کے ساتھ توں کرنے کے بعد ہمیں آگے جانے کی اجازت مل گئی ، شاہرا ریشم پر سفر کرتے احساس ہوتا ہے کہ کس طرح پاکستان آرمی اور اہل علاقہ کے مزدوروں نے چینونیوں کے ساتھ مل جب اس سرک کی تعمیر کی ہوگی تو کتنی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا وہ بھی ایسے وقت میں جب جدید مشنری کا ایسے علاقے میں پوھنچنا نہ ممکن تھا یقینا یہ سڑک کسی عجوبے سے کم نہیں یوں ہم چھوٹے موٹے قصبے اور بازاروں سے ہوتے ہوئے جا پوھنچے بٹگرام 


ہم اس وقت شراہ ریشم کے اس حصے پر سفر کر رہے ھنے جسے سپیک کا درجہ دے دیا گیا اور ابھی تک متبادل کوئی روٹ نہیں بنا گیا ہے ، 

تھا کوٹ ٹنل مکمل ہو چکی ہے لیکن اس میں نہ تو لائٹس کا انتظام کیا گیا ہے اور نہ ہی ریفلیٹر لگائے گئے ہیں اس ٹنل سے گزرنا  انتہائی خطرناک ثبت ہو سکتا ہے 


وادی الائی جو آج زلہ الائی بھی کہلاتا ہے درصل الائی نالے کے دونوں طرف آباد دو بازاروں کرک بازار اور بنا بازار سے مل کر آباد ایک چھوٹا سا شہر ہے اس شہر میں بنک اے ٹی ایم ، ہسپتال ، سکول کالج مدرسہ عدلتیں پولیس سٹیشن کے علاوہ کھیل کے میدان سمیت ضرورت زندگی کی خریداری کے لئے ہر قاسمی دکان موجود ہے


 لگ بھگ دو لاکھ افراد کی آبادی کے حمل یہ زلہ سن دو ہزار پانچ کے زلزلے میں مکمل تباہ و برباد ہو چکا تھا اس وادی کے کرک بازار میں موجود صرف ایک گیسٹ ہاؤس موجود ہے جسکے اونر عبید بھائی ہیں عبید بھائی جنہیں مقامی لوگ عبید ملنگ کے نام سے جانتے ہیں اس علاقے میں ٹورزم لانے میں انکا بہت بڑا کردار ہے اور عبید ملنگ حقیقت میں ایک درویش صفت انسان ہے میں ویڈیو کی ڈسکرپشن میں عبید بھائی کا نمبر ید کردونگا تاکہ اگر آپ لوگ وادی الائی کا سفر کرنا چھہ تو وہ آپ لوگوں کو وہاں کے خوبصورت تفریحی مقامات کی سیر کروا سکے اور پہلے سے بکنگ کرکے جا سکتے ہیں کیوں کہ وادی الائی میں اسکے علاوہ کوئی گیسٹ ہاؤس نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ آپ بنا اطلاح کے وہاں چلے جائیں اور کمرہ نہ ملنے کی صورت میں آپکو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ، اب آپ الائی ولی کی بازاروں کے کچھ منظر دیکھیں اور مجھے اجازت دن اگلی ویڈیو میں ہم الائی کے ہی نہیں پاکستان کے خوبصورت ترین میڈوز کی طرف اپنا سفر جاری رکھیں گے 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔